اولاد کی خواہش ہر انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کے ہاں اولاد پیدا ہو اور اس کا نام لینے والا اس وقت دنیا میں موجود رہے جب وہ خود دنیا میں موجود نہ ہو۔ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک میں اکثر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے ہاں پہلی اولاد لڑکا ہو۔ بیٹے کی خواہش میں لوگ خصوصاً خواتین طرح طرح کے جتن بھی کرتی ہیں۔ اولاد نرینہ کی یہ خواہش ضد پکڑ جائے تو انسان کو بہت سارے غلط فیصلے کرنے پر بھی اکسا دیتی ہے۔

لڑکے کی خواہش میں کئی لوگ دھن دولت بھی خوب خرچ کرتے ہیں۔ کئی مرد دوسری شادیاں بھی اس وجہ سے کرتے ہیں۔ اولاد نرینہ کا پیدا نہ ہونا کئی خواتین کے لئے باعث طعنہ بن جاتا ہے۔ جن کے ہاں بیٹیاں زیادہ ہوتی ہیں ایسے بعض گھروں میں بیویوں اور بہوؤں پر ظلم کے پہاڑ بھی توڑ دئیے جاتے ہیں۔ اُن کا ذہنی سکون تباہ اور ان کی زندگی اجیرن کردی جاتی ہے، جس کا اثر پورے گھر پر پڑتا ہے۔ بیٹا ہو یا بیٹی، دونوں ہی قدرت کا انمول تحفہ ہیں، قدرتی طور پر بیٹے یا بیٹی کی پیدائش کے امکانات تقریباً برابر ہی ہوتے ہیں

البتہ بعض ایسے عوامل ضرور ہیں جو کسی ایک امکان کو دوسرے کی نسبت بڑھادیتے ہیں۔ اس مضمون میں یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ کون سے امکانات یا عوامل ہیں جو نرینہ اولاد کا سبب بنتے ہیں۔ کیا کسی طریقے سے والدین اپنی مرضی کی اپنی اولاد کی جنس کا تعین کرسکتے ہیں….؟ تخلیقی پراسس اور جنس کا تعین: اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار جسم کے اندر ری پروڈکشن کا پورا پراسیس ابتداء ہی سے رکھ دیا ہے اس نظام کے ذریعے وہ اپنی نسل کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

اس ری پروڈکشن کے عمل سے ہر نوع میں نر اور مادہ کی پیدائش ہوتی ہے لیکن نر یا مادہ کا انتخاب کسی بھی نوع کے اختیار میں نہیں ہوتا یعنی کوئی بھی استقرار حمل کے دوران بائی چوائس اپنی پسند سے جنس کا تعین یعنی بیٹی یا بیٹا کا انتخاب نہیں کر سکتا۔ سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بچے کی پیدائش میں جنس کے تعین میں طبی طور پر خواتین کا کوئی کردار نہیں ہوتا، پیدا ہونے والے بچے کی جنس کے تعین میں مردوں میں موجودکروموسومز ہی اہم کردار اداکرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجئے کہ کسی بھی انسان کا جینوم (خواہ وہ مرد ہو یا عورت) کروموسومز کے 23 جوڑوں سے مل کر بنتا ہے۔

ان میں سے آخری یعنی 23 واں جوڑا، مرد یاعورت کا تعین کرتا ہے۔ مرد میں کروموسومز کا یہ جوڑا، X اور Y کروموسوم پر مشتمل ہوتا ہے۔عورت میں کروموسومز کے اس جوڑے میں دونوں کروموسومزX ہوتے ہیں۔ نئی نسل (بچے) کی تخلیق اور اس کی جنس کا تعین کرنے کے لئے تخلیقی سرگرمی کے وقت ایک کروموسوم ماں کی طرف سے اور ایک کروموسوم باپ کی طرف سے آتا ہے۔ اس دوران اگر X اورY کروموسوم ملتے ہیں تو لڑکا پیدا ہوگا، XاورX کروموسوم کے ملاپ سے لڑکی پیدا ہوگی۔ واضح رہے کہ عورت کے پاس صرف X کروموسوم ہوتا ہے۔ جبکہ مرد کے پاس X اور Y دونوں کروموسومز ہوتے ہیں۔

اس لئے یہ بات طے شدہ ہے کہ ماں کی طرف سے صرف X کروموسوم ہی آسکتا ہے جبکہ باپ کی طرف سے X اور Y، دونوں میں سے کوئی بھی ایک کروموسوم آنے کے مساوی امکانات ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں کی اس تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ قدرتی طور پر بھی لڑکے یا لڑکی کی پیدائش کے لئے ماں پر ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی، بلکہ جنس کے تعین میں باپ کی طرف سے آئے ہوئے X یاY کروموسوم ہی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ قدرت کے نظام میں لڑکی یا لڑکے کی پیدائش میں مرد اہمیت رکھتا ہے۔ مردانہ کروموسوم: بیٹے کی پیدائش کا انحصار مرودں کے Y کرموسومز پر ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے اولادِ نرینہ سے محرومی کی ذمہ داری عورت پر نہیں بلکہ مرد پر عائد ہوتی ہے۔ اگر مرد کے جسم میں یہ کروموسومز کمزور ہوں یا کسی وجہ سے عورت کے کروموسومز سے مل نہ پائی

ں تو بیٹے کی پیدائش ممکن نہیں ہے، خواہ اُس مرد کی کتنی ہی شادیاں کیوں نہ کروادی جائیں۔ اولاد میں تاخیر ہورہی ہو تو سب سے پہلے ضروری ہے کہ مرد اپنی تولیدی صحت کا جائزہ لے۔ اولاد میں تاخیر یا ثانوی بانجھ پن (Secondary Infertility) کے مسئلہ پر عموماً مرد علاج کرانے سے کتراتے ہیں۔ مرد کی یہ ہچکچاہٹ بسا اوقات صحیح تشخیص میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے ۔ اکثر اوقات یہ ایک قابل علاج معاملہ ہوتا ہے۔ صحت کی جانچ پڑتال اور چند معمولی ٹیسٹ کے بعد ، غذا، دوا اور طرز زندگی میں کچھ تبدیلی سے اس مسئلہ کا حل ممکن ہے۔ اچھی غذا اور بیٹے کی پیدائش جن لوگوں کے ہاں اولاد تو وقت پر ہورہی ہے لیکن بیٹیاں زیادہ پیدا ہورہی ہوں یا پہلی اولاد میں بیٹا ان کی زیادہ خواہش ہو، بعض ماہرین کہتے ہیں کہ انہیں اپنی غذا پر توجہ دینی چاہیے۔

اولادِ نرینہ کے جرثوموں کو تقویت دینے کے لئے بعض غذائیں مفید بتائی جاتی ہیں۔ حکماء کے مطابق بند گوبھی کا استعمال مرد میں اولادِ نرینہ کے جرثوموں کو تقویت دینے کے لئے مفید ہے۔ حمل کے قیام سے پہلے مرد کو کچھ عرصے روزانہ بند گوبھی کچی، سلاد کی صورت میں یا کسی بھی حالت میں استعمال کرنامفید بتایا جاتا ہے۔ بند گوبھی کی قسم کی دیگر سبزیوں کے ساتھ ساتھ ہری پتے دار سبزیاں بروکلی ، ایسپریگس Asparagus، پالک ، سویابین، ایووکیڈو، کیلا، کھٹی چیری، انجیر۔ ناریل، زیتون، السی اور تل کا تیل ، بادام، بادام کا مکھن جیسی غذائیں استعمال کی جانی چاہئیں ۔ ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خشک میوہ جات کھانے سے سپرم کی صحت میں بہتری آتی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق جن مردوں نے 14 ہفتوں تک روزانہ اخروٹ، بادام اور ہیزل نٹ کھائے

ان کے سپرم کی تعداد اور ساتھ ہی سپریم کے تیرنے کی طاقت میں بھی اضافہ ہوا۔ مردوں میں سپرم کی تعداد میں کمی کی وجہ آلودگی، سگریٹ نوشی اور غیر صحت مند خوراک بھی بتائی جاتی ہے۔ حمل سے قبل خواتین کس قسم کی غذا استعمال کرتی ہیں، یہ بھی اسی نوعیت کاایک اہم عامل ہے۔ اس ضمن میں ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ جن غذاؤں میں سوڈیم اور پوٹاشیم زیادہ ہوتا ہے وہ لڑکے کے حصول میں زیادہ مددگار ہوتی ہیں۔ ان غذاؤں میں سبز پتوں والی سبزیاں، مکمل اناج، گوشت، مکئی اور بلوبیری وغیرہ شامل ہیں۔ جن غذاؤں سے پرہیز بہتر ہے ان میں مٹھائیاں، گولی ٹافی، گھر میں بنے یا بازاری میٹھے کھانے، اور کیک وغیرہ شامل ہیں۔ ایک سائنسی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ باقاعدہ ناشتہ کرنے والی اور معمول میں زیادہ کیلوری کی غذا کھانے والی خواتین کے ہاں بیٹے کی پیدائش کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

یہ تحقیق برطانیہ میں ایگزیٹر یونیورسٹی اور اوکسفورڈ یونیورسٹی نے کی ہے اور اس کی تفصیل رائل سوسائٹی کے سائنسی جریدے ‘‘بائیولوجیکل سائنس’’ میں شائع کی گئی۔ اس تحقیق میں برطانیہ میں پہلی بار ماں بننے والی 740 خواتین کا حمل سے پہلے اور حمل کے ابتدائی مراحل میں خوراک کے ریکارڈ پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس گروپ میں سے چھپن فیصد خواتین کے ہاں بیٹا ہوا۔ یہ وہی خواتین تھیں جو زیادہ کیلوری اور غدائیت سے بھرپور کھانا کھا رہی تھیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ جن خواتین کے ہاں بیٹا ہوا وہ باقاعدہ ناشتہ کرتی تھیں اور ان کی غذا میں مختلف وٹامن اور معدنیات شامل تھیں۔ان میں پوتاشیئم،

کیلشیئم، وٹامن سی اور وٹامن بی اہم تھے۔ آئی وی ایف (IVF) in-vitro fertilization کے متعلق تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جسم میں گلوکوز کی زیادہ مقدار سے لڑکوں کے زیادہ اور لڑکیوں کے پیدا ہونے کے کم امکانات ہوتے ہیں۔ ناشتہ نہ کرنے والی خواتین میں گلوکوز کی مقدار گر جاتی ہے۔اس جائزے میں ناشتہ کرنے والی بیشتر خواتین صبح دودھ کے ساتھ ہائی انرجی سیرئیل، کھاتی تھیں ۔محققین کہتے ہیں کہ اس سے تولیدی صحت میں دلیا اور اجناس کی غذائی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ شیفیلڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایلن کیسی کا کہنا ہے کہ شاید اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں لڑکوں کی شرح پیدائش میں کمی ہو رہی ہے کیونکہ ان ممالک میں کئی خواتین اپنا وزن کم رکھنے کے غرض سے کیلوری کملیتی ہیں اور باقاعدہ ناشتہ بھی نہیں کرتیں۔ بہترین وقت کا دھیان رکھیں میڈیکل سائنس کے مطابق بیضہ ریزی Ovulation کے وقت ایک انڈہ کسی ایک بیضہ دانی سے نکل کر متعلقہ نالی میں آجاتا ہے۔ دوسری طرف سے مرد کا اسپرم آتا ہے۔ دونوں کے ملاپ سے حمل ٹھہرجاتا ہے۔ ایک ماہ میں یعنی ایام ختم ہونے کے بعد اگلی بار ایام شروع ہونے تک عام طور پہ ایک بار بیضہ بنتا اور خارج ہوتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق Y کروموسوم تیزی سے تیر سکتا ہے، لیکن x میں زیادہ برداشت اور استقلال ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر خاتون کا بیضہ اور مر دانہ اسپرم چار سے چھ گھنٹے تک قریب رہیں تو حمل ٹھہرنے اور لڑکے کی پیدائش کے امکانات کے لیے مناسب وقت مانا جاتا ہے

۔ کیلنڈر یا موبائل اپلی کیشن کی مدد سے خواتین اپنے ماہانہ سائیکل کا حساب لگاسکتی ہیں۔ اگر ایک خاتون کی ماہواری کا سائیکل 28 دن کا ہو تو گیارہویں دن سے چودہویں دن کے ایام میں بیضہ خارج ہو تا ہے۔ اس لئے ڈاکٹرز عام طور پہ میاں بیوی کو فطری ایام ختم ہونے کے بعد 7 ساتویں دن سے لیکر 20 بیسویں دن کے عرصے میں قربت کو مفید سمجھتے ہیں۔ میڈیکل سائنس کے مطابق جس دن خواتین کا بیضہ خارج ہوتا ہے اس روز ان کے جسم کا درجہ حرارت کچھ بڑھ جاتا ہے۔ حمل کے لیے مناسب وقت گزرنے کے بعد جسم کا درجہ حرارت پھر سے نارمل ہو جاتا ہے۔ تھرمامیٹر سے روزانہ صبح کا درجہ حرارت نوٹ کیا جاسکتا ہے ۔ اس چارٹ میں جس دن جسم کا درجہ حرارت اعشاریہ دو درجہ یا اس سے زائد بڑھا ہوا ہو تو وہ حمل قرار پانے کے لیے دن مفید سمجھا جاتا ہے ۔

شیئر کریں