حمل کے متعلق خواتین میں مختلف قسم کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، جس کا بنیادی مقصد لوگوں میں معلومات کی آگہی نہ ہونا ہے۔ آج وومن کارنر میں جانیئے حمل کے دوران گھر میں تیسٹ کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے اور ڈاکٹر کیا بتاتی ہیں:

” پاکستان میں خواتین کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ، جوں ہی ماہواری رک جاتی ہے، سب کو لگنے لگتا ہے کہ خاتون حاملہ ہیں جبکہ یہ حقیقت نہیں ہے، ایسے میں وہ خاتون جس کی ماہواری رک گئی ہے وہ بذاتِ خود پریگنینسی اسٹرپ ٹیسٹ کریں اور پھر اس کے رزلٹ کی بنیاد پر آگے بات کریں ورنہ ہوتا یہ ہے کہ 4 یا 5 دن بعد ماہواری ہو جاتی ہے اور گھر والے خاتون کو نفسیاتی طور پر پریشان کرنے لگ جاتے ہیں۔”

” حمل کا ٹیسٹ صبح سویرے کیا جائے، مگر اس روز آپ سب سے پہلے نہائیں، اور پھر اس کے بعد پخانے کی کچھ مقدار ایک صاف کنٹینر میں جمع کرلیں، اور پھر اس کو پریگنینسی سٹرپ کے اندر ڈالیں، اور 3 منٹ کے لئے یوں ہی کسی خُشک سطح پر رکھ دیں۔ 3 منٹ کے وفقے کے بعد آپ دیکھیں گی کہ اس سٹرپ پر 2 گلابی لائنیں ہوں گی، یا تو ایک لائن ہوگی، یا پھر ایک گہری اور ایک ہلکی لائن ہوگی۔”

ان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا حمل ٹہر چکا ہے، اب آپ پہلی فرصت میں کسی ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اپنا خیال کریں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی رپورٹ منفی ہے، آپ حاملہ نہیں ہیں۔ مایوس نہ ہوں، اگلی مرتبہ یقیناً آپ کی رپورٹ مثبت آ جائے گی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ 3 دن بعد آپ اپنا ٹیسٹ دوبارہ کریں، یقیناً آپ کا حمل ٹہر جائے گا اور اگر نہ ٹہرے تو کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے۔

دراصل دورانِ حمل خواتین کے یورین میں بیٹا اے سی جی ہارمونز کا اخراج ہوتا ہے جو کہ حمل کی موجودگی اور نئے اوولیوز کا پتہ دیتے ہیں جس سے بچے کے وجود کا ممکنہ پتہ لگایا جاتا ہے۔

Sharing is caring!

شیئر کریں