السلام و علیکم دوستو ! اللہ کا فرمان ہے کہ قرآن مجید پہاڑوں پر اتارا جاتا تو اسکے بوجھ سے وہ پھٹ جاتے۔ لیکن انسان کے سینے نے اس کو قبول کیا ۔یہ کتنی بڑی فضیلت ہے کہ انسان اللہ کا خلیفہ ہونے کے اعزاز کی وجہ سے۔ قرآن مجید کو اپنے سینے میں محفوظ رکھتا ہے۔ تو وہ پرسکون ہوجاتا ہے ۔یہ قرآن کا اعجاز ہے جو انسان کو روحانی طور پر ایسی قوت عطا فرماتا ہے ۔کہ جس کی جگہ کوئی میڈیسن نہیں لے سکتی ۔

عارفان حق نے فرمایا ہے کہ انسان پر جتنا بھی دنیاوی بوجھ ہو ۔اگر وہ کلام پاک پڑھتا رہے۔ اور کسی بھی سورہ مبارکہ کا وظیفہ بھی کرے۔اسے شفا ہی شفا ہے۔عارفین کہتے ہیں ۔کہ قرآن مجید جو شخص سورۃ الاعراف ہر مہینہ میں ایک دفعہ پڑھے گا ۔

تو اسے بروز قیامت کوئی خوف و غم نہ ہوگا۔اگر جمعہ کو ایک مرتبہ پڑھے گا تو اس کا حشر ان لوگوں میں ہوگا جن سے حساب نہ لیا جائے گا۔ جو کوئی سورۃ الاعراف ۳دفعہ پڑھے گا جابر حاکم اس سے نرمی سے پیش آئے گا۔ اگر کوئی سورۃ الاعراف لکھ کر اپنے پاس رکھے گا وہ ہر قسم کی دنیاوی مشکلات سے محفوظ رہے گا۔

جو کوئی سورۃ الاعراف کوعرق گلاب اور زعفران سے لکھ کر اسے اپنے پاس رکھے گا اور گھول کر اسے پیئے گا تو اس کا دل اللہ کے نور سے منور ہوگا۔ اور کوئی شخص سورۃ الاعراف کو لکھ کر اسے شہد میں ملا کر پیئے گا تو اس کے علم میں اضافہ ہوگاـ

اچھی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے۔ جزاک اللہ

شیئر کریں